باب:تاریخ

ترمیم  

باب تـاریـخ

History

تاریخ ماضی کے واقعات کو محفوظ قلم کرنے اور انکا تجزیہ کرنے کو کہا جاتا ہے، یہ واقعات تہذیبوں کے بھی ہوسکتے ہیں معاشروں کے بھی اور یا پھر شخصی بھی۔ انسائکلوپیڈیا برٹانیکا 1911ء کی جلد کے مطابق وسیع النظر میں تاریخ وہ سب کچھ ہے جو ماضی میں رونما ہوا ہو، یہ صرف انسانی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اس میں قدرتی دنیا کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہ وہ سب کچھ ہے جو کہ تبدیلی سے گذرا ہو؛ اور جیسا کہ موجود سائنس آشکار کرچکی ہے کہ کوئی بھی شۓ ایسی نہیں جو مطلق سکون میں ہو، لہذا، پوری کائنات، اور اسکا ہر ہر حصہ اپنی تاریخ رکھتا ہے۔
خودکار تازہ انتخابات کیلیۓ یہاں ٹک کیجیۓ۔
ترمیم  

منتخب مقالہ

سلجوق 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ طغرل بے سلجوق کا پوتا تھا جبکہ چغری بیگ اس کا بھائی تھا جن کی زیر قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ خوارزم تک محدود ہوگئے لیکن طغرل اورچغری کی زیرقیادت انہوں نے 1028ء اور 1029ء میں مرو اور نیشاپور پر قبضہ کرلیا۔ ان کے جانشینوں نے خراسان اور بلخ میں مزید علاقے فتح کئے اور 1037ء میں غزنی پر حملہ کیا۔ 1039ء میں جنگ دندانیقان میں انہوں نے غزنوی سلطنت کے بادشاہ مسعود اول کو شکست دے دی اور مسعود سلطنت کے تمام مغربی حصے سلجوقیوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھا۔ 1055ء میں طغرل نے بنی بویہ کی شیعہ سلطنت سے بغداد چھین لیا۔ الپ ارسلان اپنے چچا طغرل بیگ کے بعد سلجوقی سلطنت کے تخت پر بیٹھا اور اس نے 1064ء میں آرمینیا اور جارجیا کو سلطنت میں شامل کرلیا۔ وہ ایک بہت بیدار مغز اور بہادر حکمران تھا ۔ مشہور مدبر نظام الملک طوسی کو اپنے باپ چغری بیگ کی سفارش پر وزیر سلطنت مقرر کیا۔ اس کے عہد میں سلجوقی سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوئیں۔ پہلے ہرات اور ماوراء النہر کو اپنی قلمرو میں شامل کیا۔ پھر فاطمی حکمران کو شکست دے کر مکہ اور مدینہ کو اپنی قلمر و میں شامل کیا۔ اس سے اسلامی دنیا میں سلجوقیوں کا اثر و اقتدار بڑھ گیا۔ بازنطنیوں نے حملہ کیا تو 26 اگست 1071ء کو ملازکرد کے مقام پر ان کو عبرتناک شکست دی۔
ترمیم  

منتخب تصویر

عیسائی لڑکے مسلمان ہونے کےبعد مسجد میں عبادت کررہے ہیں، انہیں سلطنت عثمانیہ کی فوج ینی چری میں شامل کیا جاتا تھا

ترمیم  

کیا آپ کو معلوم ہے۔۔۔

  • 756ء میں عبدالرحمٰن الداخل نے جب اندلس فتح کرنے کے لیے مقامی امیر سے جنگ لڑی تو بے سر و سامانی کا عالم یہ تھا کہ فوج کے پاس عَلَم بھی نہ تھا، ایک سپاہی نے نیزے پر سبز عمامہ لپیٹ دیا اور یہی اندلس میں امویوں کا نشان اور علم قرار پایا۔
  • محمد احمد بن سید عبداللہ المعروف مہدی سوڈانی سے انگریز اس قدر نفرت کرتے تھے کہ 1900ء میں سوڈان پر قبضہ مکمل ہونے کے بعد انہوں نے کی قبر کھدوادی اور اُن کی ہڈیاں جلا ڈالیں
  • 1305ء میں اسکاٹ لینڈ کے جنگجو ولیم والس کو گرفتار کرنے کے بعد انگریز افواج نے اسے بد ترین تشدد کا نشانہ بنا کر سزائے موت دے دی۔ اس کے جسم کے کئی ٹکڑے کر کے مختلف شہروں میں لٹکا دیے گئے۔ ولیم کا سر لندن برج (پل) پر ایک نیزے کی انی پر رکھا گیا
  • مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بر صغیر میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سب سے بڑی اور پائیدار خود مختار ریاست حیدر آباد دکن کی مملکت آصفیہ تھی
  • 1967ء میں اسرائیل نے صرف 6 روز میں اردن، شام اور مصر کی مشترکہ فوج کو شکست دی اور بیت المقدس سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اسی نسبت سے یہ 6 روزہ جنگ کہلاتی ہے
  • 1922ء میں موئن جو دڑو کو دریافت کرنے والے برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل کی گاڑی آج بھی یہاں کے عجائب خانے کی زینت ہے
ترمیم  

ذیلی ابواب تاریخ

ترمیم  

ویکی منصوبے

ترمیم  

آپ سب کچھ کر سکتے ہیں

ویکی منصوبوں میں حصہ لیجیۓ:
طرزیات کے مختصر مضامین میں اضافے کیجیۓ:

جو نا ملے اسے پوچھیۓ:

ترمیم  

زمرہ جات

تاریخبہ تحت زمانہبہ تحت علاقہ جاتبہ تحت موضوعبہ تحت اقوامتاریخ اسلامتخطیط التاریخعلم الآثارکتبدستاویزاتنقشہ جاتتصاویرجرائد و مجلاتعجائب گھرفعالی تاریختاریخ الکاذبترتیباتِ زمانیتقدمِ زمانیلوگ

ترمیم  

متعلقہ ویکیمیڈیا

ابواب کیا ہیں؟ | فہرست ابواب | منتخب ابواب


wymiana linkami SEO Tools SEO Tools SEO Tools system wymiany linków tanie kredyty gotówkowe kreatyna Plaza 3 star hotel Los Angeles krynica noclegi Sejm Tyk