دیگر زبانیں
|
ابوبکر
[ترمیم] قبیلہ اور پیشہصدیق اکبر قبیلہ قریش کی شاخ تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا پیشہ تجارت تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہجرت کی۔ انہوں نے اپنی تمام دولت راہ خدا میں خرچ کر دی۔ اسلام لانے کے بعد آپ کی زیادہ عمر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میں گزری۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری ایام میں آپ (رض) کو ہی امامت کے فرائض سونپے گئے۔ پھر وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آپ (رض) ہی کو مدینہ کی سلطنت اسلامیہ کا پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔ نہایت سادہ دل صابر اور اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروی کرنے والے تھے۔ انتہائی پُر آشوب دور میں بھی آپ نے اسامہ بن زید کے لشکر کو سرحد عرب پر سب صحابہ کی مخالفت کے باوجود رد نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس لشکر کی روانگی کا حکم دیا تھا۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں آپ کی شدت ہی کی وجہ سے ارتداد کا خاتمہ ہوا۔ 634 ء میں ڈھائی سال خلافت کے امور سر انجام دینے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پہلو میں دفن ہوئے۔ [ترمیم] ابوبکر کی حیات زندگی[ترمیم] ابتدائی زندگی[ترمیم] اسلام قبول کرنے والے پہلے آدمی[ترمیم] زمانۂ خلافتحضور اکرم (ص) نے بیماری کے آخری ایام میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز کی امامت کو کہا۔ ایک دفعہ نماز کے اوقات میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ سے باہر تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہ پا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز کی امامت کو کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکو امامت کرواتا دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا "اللہ اور اس کا رسول (ص) یہ پسند کرتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نماز کی امامت کرے" یہ بات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر آپ ﷺ کے اعتماد کا اظہار تھا کہ آپ ہی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہوں گے۔ اپ پھلے خلیفہ بنے [ترمیم] جنگیں
[ترمیم] قرآن کی ترتیبحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی میں ہی آپ نے مختلف لوگوں کو قرآن پاک کو تحریر کرنے پر مقرر کر رکھا تھا۔ مگر یہ ایک کتابی شکل میں دستیاب نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں جنگ یمامہ میں بہت سے حفاظ کرام کے شہید ہو جانے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے پر آپ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو قرآن پاک کو ایک کتابی شکل میں مرتب کرنے کا حکم دیا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان تمام اوراق اور دیگر اشیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی میں قرآن پاک لکھا گیا تھا جمع کیا اور اس کو ایک کتابی شکل میں جمع کر دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسی صحیفہ سے نقول کروا کر دیگر صوبہ جات میں بھجوائی گئیں۔ [ترمیم] وفاتآپ رضی اللہ تعالی عنہ 23اگست 634 میں مدینہ میں فوت ہوءے۔ اپنی وفات سے پہلےآپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیں۔ لوگوں نے آپ کی ہدایت پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ وفات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ تمام رقم کو کہ بطور وظیبہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیت المال سے دوران خلافت لی تھی اپنی وراثت سے بیت المال کو واپس کر دی۔ وفات کے وقت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر مبارک 61 سال تھی۔ [ترمیم] مدفنحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو وفات کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مزار مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ دفن کیا گیا۔ جو کہ ایک بہت بڑی سعادت تھی۔ اس طرح دنیا کے ساتھی ایک ہی جگہ پر دفن ہیں۔ |